سب کو رسوا باری باری کیا کرو

Sab Ko Ruswa Bari Bari Kya Karo

سب کو رسوا باری باری کیا کرو
ہر موسم میں فتوے جاری کیا کرو

راتوں کا نیندوں سے رشتہ ٹوٹ چکا
اپنے گھر کی پہرے داری کیا کرو

قطرہ قطرہ شبنم گن کر کیا ہوگا
دریاؤں کی دعوے داری کیا کرو

روز قصیدے لکھو گونگے بہروں کے
فرصت ہو تو یہ بے گاری کیا کرو

شب بھر آنے والے دن کے خواب بنو
دن بھر فکر شب بے داری کیا کرو

چاند زیادہ روشن ہے تو رہنے دو
جگنو بھیا جی مت بھاری کیا کرو

جب جی چاہے موت بچھا دو بستی میں
لیکن باتیں پیاری پیاری کیا کرو

رات بدن دریا میں روز اترتی ہے
اس کشتی میں خوب سواری کیا کرو

روز وہی اک کوشش زندہ رہنے کی
مرنے کی بھی کچھ تیاری کیا کرو

خواب لپیٹے سوتے رہنا ٹھیک نہیں
فرصت ہو تو شب بے داری کیا کرو

کاغذ کو سب سونپ دیا یہ ٹھیک نہیں
شعر کبھی خود پر بھی طاری کیا کرو

تبصرہ کریں