سب ستم، سب جفائیں بھلا دی میں نے

Sab-sitam

سب ستم، سب جفائیں بھلا دی میں نے
ان کے بے وفائی کی خود کو سزا دی میں نے

اس گاؤں کے مسافر تم نے دیکھی ہے وہ صورت
جس پہ اپنی زندگی لٹا دی میں نے

اپنے زخموں کو بارہا کُریدا ہے خود
اپنے درد کو یوں دوا دی میں نے

دم لبوں پہ جب آ کے ٹھہرا عامر
ان کی تصویر پہ نظریں جما دی میں نے

تبصرہ کریں