-
سب ستم، سب جفائیں بھلا دی میں نے ان کے بے وفائی کی خود کو سزا دی میں نے
-
اس گاؤں کے مسافر تم نے دیکھی ہے وہ صورت جس پہ اپنی زندگی لٹا دی میں نے
-
اپنے زخموں کو بارہا کُریدا ہے خود اپنے درد کو یوں دوا دی میں نے
-
دم لبوں پہ جب آ کے ٹھہرا عامر ان کی تصویر پہ نظریں جما دی میں نے
ارسال کنندہ Aamir Imtiaz Aamir


