-
وہ کہتے ہیں كے آگے سنائوں میں کہہ دیتا ہوں كے پِھر کبھی وہ کہتے ہے كے کچھ تو بتاؤں میں کہہ دیتا ہوں كے پِھر کبھی
-
جب ہوتی ہے دِل میں حسرت جب ہوتی ہے جِسَم میں قوت پِھر ہاتھ آتا بھی ہے کاغذ پر قلم کہہ دیتی ہے پِھر کبھی
-
وہ قصے پرانے وہ گزرے زمانے چھو جاتے ہیں من کو وہ بیتے فسانے کی رب سے بھی تھی ہاتھ جوڑ كے منت پر قدرت بھی کہہ گئی پِھر کبھی
-
جو چاہا تھا میں نے وہ پایا نہیں جو پایا ہے میں نے وہ سوچا نہیں مسرت سے پوچھا یہ کیسی عنایت اب قدرت بھی کہہ گئی بیٹا پِھر کبھی
-
اضافہ ہوا اب عقیدت میں میری عمر اب یہ گزرے عبادت میں میری محسن ہو تیرا بس یہی اک حقیقت للہ ، اب نہ کہہ دینا كے پِھر کبھی
ارسال کنندہ Mohsen Iqbal


