پاؤں کی دھول کو دستار سے لڑنا ہو گا

mohsan aftab ghazal

پاؤں کی دھول کو دستار سے لڑنا ہو گا
اب غریبوں کو بھی زردار سے لڑنا ہو گا

جنگ تو جیت گیا ہوں میں جہاں والوں سے
اب مجھے اپنے ہی گھر بار سے لڑنا ہو گا

گر بسانی ہے محبت کی نئی دنیا تو
اے دیوانوں تمھیں سنسار سے لڑنا ہو گا

کیا خبر تھی كے گھڑی بھر كے سکون کی خاطر
دھوپ میں سایہ دیوار سے لڑنا ہو گا

مات کھائیں گے جو میدانون سے ہٹیں گے پیچھے
اب ہمیں جزبہ ایثار سے لڑنا ہو گا

ہم نے آپس میں لڑائی تو بہت کر لی ہے
اب ہمیں ملک كے غدار سے لڑنا ہو گا

جنگ دشمنوں سے نہیں اپنے لہو سے ہو تو
تیر و تلوار نہیں پیار سے لڑنا ہو گا

روح کو جسم سے آزاد اگر ھونا ہے
ہر گھڑی سانسوں کی تلوار سے لڑنا ہو گا

تبصرہ کریں