مواد پر جائیں
SadPoetry
پاؤں کی دھول کو دستار سے لڑنا ہو گا

پاؤں کی دھول کو دستار سے لڑنا ہو گا

غزل 8 اشعار
  1. پاؤں کی دھول کو دستار سے لڑنا ہو گا اب غریبوں کو بھی زردار سے لڑنا ہو گا

  2. جنگ تو جیت گیا ہوں میں جہاں والوں سے اب مجھے اپنے ہی گھر بار سے لڑنا ہو گا

  3. گر بسانی ہے محبت کی نئی دنیا تو اے دیوانوں تمھیں سنسار سے لڑنا ہو گا

  4. کیا خبر تھی كے گھڑی بھر كے سکون کی خاطر دھوپ میں سایہ دیوار سے لڑنا ہو گا

  5. مات کھائیں گے جو میدانون سے ہٹیں گے پیچھے اب ہمیں جزبہ ایثار سے لڑنا ہو گا

  6. ہم نے آپس میں لڑائی تو بہت کر لی ہے اب ہمیں ملک كے غدار سے لڑنا ہو گا

  7. جنگ دشمنوں سے نہیں اپنے لہو سے ہو تو تیر و تلوار نہیں پیار سے لڑنا ہو گا

  8. روح کو جسم سے آزاد اگر ھونا ہے ہر گھڑی سانسوں کی تلوار سے لڑنا ہو گا

ارسال کنندہ Mohsin Aftab Kelapuri

تصحیح بتائیں

مزید غزل شاعری

سب دیکھیں