-
پاؤں کی دھول کو دستار سے لڑنا ہو گا اب غریبوں کو بھی زردار سے لڑنا ہو گا
-
جنگ تو جیت گیا ہوں میں جہاں والوں سے اب مجھے اپنے ہی گھر بار سے لڑنا ہو گا
-
گر بسانی ہے محبت کی نئی دنیا تو اے دیوانوں تمھیں سنسار سے لڑنا ہو گا
-
کیا خبر تھی كے گھڑی بھر كے سکون کی خاطر دھوپ میں سایہ دیوار سے لڑنا ہو گا
-
مات کھائیں گے جو میدانون سے ہٹیں گے پیچھے اب ہمیں جزبہ ایثار سے لڑنا ہو گا
-
ہم نے آپس میں لڑائی تو بہت کر لی ہے اب ہمیں ملک كے غدار سے لڑنا ہو گا
-
جنگ دشمنوں سے نہیں اپنے لہو سے ہو تو تیر و تلوار نہیں پیار سے لڑنا ہو گا
-
روح کو جسم سے آزاد اگر ھونا ہے ہر گھڑی سانسوں کی تلوار سے لڑنا ہو گا
ارسال کنندہ Mohsin Aftab Kelapuri


