نظر جو مجھ سے ملا کر گیا ہے

nazar jo muj

نظر جو مجھ سے ملا کر گیا ہے
میرے ہوش وہ اڑا کر گیا ہے

اس كے سوا کچھ یاد نہیں
ہر نقش ذہن سے مٹا کر گیا ہے

آنکھیں سونے کا نام نہیں لیتی
ان کی نیندیں چرا کر گیا ہے

وہ میرے پاس ٹھہرا نہیں لیکن
مجھے اپنی جھلک دکھا کر گیا ہے

تبصرہ کریں