-
نظر جو مجھ سے ملا کر گیا ہے میرے ہوش وہ اڑا کر گیا ہے
-
اس كے سوا کچھ یاد نہیں ہر نقش ذہن سے مٹا کر گیا ہے
-
آنکھیں سونے کا نام نہیں لیتی ان کی نیندیں چرا کر گیا ہے
-
وہ میرے پاس ٹھہرا نہیں لیکن مجھے اپنی جھلک دکھا کر گیا ہے
ارسال کنندہ M. Asghar Mirpuri


