نہ سہی اور پر اتنی تو عنایت کرتے

urdu-ghazal

نہ سہی اور پر اتنی تو عنایت کرتے
اپنے مہمان کو ہنستے ہوئے رخصت کرتے

مبہم الفاظ میں ہم نے تجھے کیا لکھا ہے
تو کبھی روبرو آتا تو وضاحت کرتے

ھم نے غم کو بھی محبت کا تسلسل جانا
ہم کوئی تم تھے کہ دنیا سے شکایت کرتے

ہم نے سوکھی ہوئی شاخوں پہ لہو چھڑکا تھا
پھول اگر اب بھی نہ کھلتے تو قیامت کرتے

کی محبت تو سیاست کا چلن چھوڑ دیا
ہم اگر پیار نہ کرتے تو حکومت کرتے

کتنے دن ہو گئے خاموش ہو تم خیر تو ہے
وقت ملتا تو ذرا فون پہ زحمت کرتے

تجھ کو کھونے کا سرے سے کبھی سوچا ہی نہ تھا
ہم اگر تجھ کو نہ پاتے تو بغاوت کرتے

گونجتا آتا ہے ناراض ہوائوں کا جلوس
گھر میں ہوتے تو چراغوں کی حفاظت کرتے

رتجگے ایسے کہ پتھرا گئیں آنکھیں منہاس
آنکھ لگتی تو کسی خواب کی حسرت کرتے

شاعر : ڈاکٹر علی ظہیر منہاس

تبصرہ کریں