-
مجھ پہ اتنے ستم کیا نہ کرو اے زندگی مجھے رسوا نہ کرو
-
حقیقت کھلے گی کبھی نہ کبھی تو خلاف میرے ابھی کوئی فیصلہ نہ کرو
-
تو نے دیکھا نہیں زندان محبت کا مزہ خود گنہگار کہتا ہے مجھے رہا نہ کرو
-
دوستی کر لی اس نے زخموں سے سو اس کے زخموں کی دوا نہ کرو
ارسال کنندہ Sana Ullah Rind


