مواد پر جائیں
SadPoetry
مجھ پہ اتنے ستم کیا نہ کرو

مجھ پہ اتنے ستم کیا نہ کرو

غزل 4 اشعار
  1. مجھ پہ اتنے ستم کیا نہ کرو اے زندگی مجھے رسوا نہ کرو

  2. حقیقت کھلے گی کبھی نہ کبھی تو خلاف میرے ابھی کوئی فیصلہ نہ کرو

  3. تو نے دیکھا نہیں زندان محبت کا مزہ خود گنہگار کہتا ہے مجھے رہا نہ کرو

  4. دوستی کر لی اس نے زخموں سے سو اس کے زخموں کی دوا نہ کرو

ارسال کنندہ Sana Ullah Rind

تصحیح بتائیں

مزید غزل شاعری

سب دیکھیں