مجھے غرور رہتا ہے تیری آشنائی کا

bewafa-ghazal-poetry

مجھے غرور رہتا ہے تیری آشنائی کا
مگر ساتھ غم بھی ہے تیری جدائی کا

بھیڑ میں اکیلے پن کا احساس ہوتا ہے
تیرے بن یہ حال ہے میری تنہائی کا

تمہی نے ہماری کوئی خبر نہ لی جاناں
ورنہ ہمیں دعوی تھا تیری دلربائی کا

اپنے پیار کی قید سے تم آزاد نہ کرنا
میرا بھی ارادہ نہیں ہے رہائی کا

اصغر کو کیوں طعنہ دیتے ہو بے وفائی کا
جب تم خود سامنا نہیں کر سکتے سچائی کا
محمد اصغر میرپوری

تبصرہ کریں