-
میرے لفظ نہیں مہتاج کسی صورت کے میں لکھتا ہوں فقط حال سیرت کے
-
میں نے گوا دیے سبھی دوست اپنے اب ساتھ محض لوگ ہیں ضرورت کے
-
سکون درکار نہیں، اپنا ہی ہوں دشمن چاہیے لمحے وہی جو تھے مسرت کے
-
دل! نکالے گئے جس عمارت سے ہم اُٹھائے ہوئے ہیں بوجھ اُسی عمارت کے
-
جو دن گزارے تھے تیرے ہجر میں جان! وہ دن تھے میری شرارت کے
-
ہوئی مدت آنکھوں کو چمکے ہوئے اب بخش دے تحائف زیارت کے
-
میسر رہے صرف مجھے سماعت تیری ہم نہیں جائیں گے پیچھے شُہرت کے
-
مُصلت کیے نعمان، تم نے وہ فیصلے بھی ہم جن پر رکھتے تھے حق مشاورت کے
ارسال کنندہ Numan Ijaz


