میں اس کو آنسوؤں سے لکھ رہا ہوں

waseem brelvi 22

میں اس کو آنسوؤں سے لکھ رہا ہوں
کہ میرے بعد کوئی پڑھ نہ پائے

guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام تبصرے دیکھیں