-
ماں وہ چھت ہے بِنا جس کے گھر نہیں ہوتا باپ دیوار ہے جو چھت کا پِلر ہوتا ہے
-
کوئی تو ہے کہ جو ہر روز یاد کرتا ہے وہ جس کی محفلوں میں میرا ذکر ہوتا ہے
-
اس نئے سال یہ سوچا ہے کہ خوش رہنا ہے جس طرح کوئی اکیلا بے فکر ہوتا ہے
-
چھوڑ جائے گا تجھے جب کوئی چاہنے والا میں بھی پوچھوں گا بتا درد کدھر ہوتا ہے
-
تیرے شہر کے پھولوں کی بھی مثال نہیں جس طرح کوئی بہت مہنگا عطر ہوتا ہے
-
میرے حالات نہ پوچھو کہ میں آوارہ نصیب ایسا ہوں جیسے کوئی در بدر ہوتا ہے
-
میں وہ دریائے محبت ہوں کہ جس کا سلمان اک تیرے دل کے سمندر میں اُتر ہوتا ہے
-
سلمان احمد اعوان
ارسال کنندہ Salman Ahmad Awan


