شعر Read in Roman Urdu & English کچھ طرز ستم بھی ہے کچھ انداز وفا بھی کھلتا نہیں حال ان کی طبیعت کا ذرا بھی تصحیح بتائیں → پچھلایہ دلبری یہ ناز یہ انداز یہ جمال اگلا ←ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے اکبر الہ آبادی کا مزید کلامتمام کلام ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئےپورا شعر پڑھیں یہ دلبری یہ ناز یہ انداز یہ جمالپورا شعر پڑھیں لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کوپورا شعر پڑھیں