کچھ بات ہے كے آج خیال یار آیا

Aamir-Imtiaz-ghazals

کچھ بات ہے كے آج خیال یار آیا
ایک بار  نہی بلکہ بار بار آیا

بھول چکا تھا سب چوٹیں دِل کی
یہ کیا كے پِھر وہ زخم فگار آیا

وہ زمانے کی سازش ، وہ اپنوں کا ستم
کچھ نہیں بس یاد اک اک وار آیا

بتائے تو کوئی جا كے كے کوئی صاحب کو
چلتے چلتے یہاں تک اس کا طلبگار آیا

عامر نہ کر جیت کی لگن اب
جانے کب کا ہے تو ہار آیا

تبصرہ کریں