-
کچھ بات ہے كے آج خیال یار آیا ایک بار نہی بلکہ بار بار آیا
-
بھول چکا تھا سب چوٹیں دِل کی یہ کیا كے پِھر وہ زخم فگار آیا
-
وہ زمانے کی سازش ، وہ اپنوں کا ستم کچھ نہیں بس یاد اک اک وار آیا
-
بتائے تو کوئی جا كے كے کوئی صاحب کو چلتے چلتے یہاں تک اس کا طلبگار آیا
-
عامر نہ کر جیت کی لگن اب جانے کب کا ہے تو ہار آیا
ارسال کنندہ Aamir Imtiaz Aamir


