کو ئی ظالم کوئی فاسق کوئی بدکار نہیں رہا

koi zaalim koi fasiq

کو ئی ظالم کوئی فاسق کوئی بدکار نہیں رہا
ذوالفقار کے مقابل لشکرِکفار نہیں رہا

علی کی بہادری، کیا لفظوں میں ہو بیان
نادِعلی کےبعد،بابِ خیبر نہیں رہا

میرے آقا ﷺ کو اللہ نے، کوثر سے نوازا ہے
محبوبِ خدا کو ابتر کہنے والا نہیں رہا

اب بھی آتی ہے مہک، بادِ کربلا سے حسین کی
حسنین کے دشمنوں کا، کوئی وارث نہیں رہا

ٹیک آیا جو اپنی جبیں، کعبے کی چوکھٹ پر
کتنا بھی ہو غافل، گنہگار نہیں رہا

یوں تو آئے محشر میں ایک سے ایک سکندر
رتبہ غلامِ علی کے برابر نہیں رہا

ڈوبی ہوئی تھی دنیا جہالت کی ظلمت میں
ظہورِ آ قا ﷺ کے بعد عالم میں اندھیرا نہیں رہا

اللہ نے حکم دیا پونچھا دیجئے رسول
بعد “من کنت مولا” پیغام رسالت نہیں رہا

جب سے ڈوبا ہے ساحل، محمد کے سمندر میں
ڈر دنیا نہیں رہا، خوفِ حشر نہیں رہا

تبصرہ کریں