میرا دل ہوا ہے زخمی کسی کی نگاہ کا

میرا دل ہوا ہے زخمی کسی کی نگاہ کا
عاشق یہ ہو گیا ہے کسی كی نگاہ کا

ساقی شراب لا كہ چلوں اپنے راہ پہ
راستہ یہ کھوجتا ہے کسی کی نگاہ کا

کثرت سے ورد کرتا ہے بس نام آپکا
لب گانا گا رہا ہے کسی کی نگاہ کا

عابد ہو تم عبادت میں دِل کو لگاؤ یار
کیوں خیال آرہا ہے کسی کی نگاہ کا

کل شب جو گہری نیند میں سویا ہوا تھا میں
چونکا كے خواب آیا کسی کی نگاہ کا

کل چودھویں کا چاند تھا بیٹھے ہوئے تھے ہم
چرچا بنا ہوا تھا کسی کی نگاہ کا

خود اعتکاف میں ہوں مگر دِل کا کیا کروں
روزہ یہ رکھ رہا ہے کسی کی نگاہ کا

قلم منیب ہو كے وه غالب کا ہو قلم
قصہ سنا رہا ہے کسی کی نگاہ کا

تبصرہ کریں