جو مری شبوں کے چراغ تھے جو مری امید کے باغ تھے

aibar-sajid- umeed

جو مری شبوں کے چراغ تھے جو مری امید کے باغ تھے
وہی لوگ ہیں مری آرزو وہی صورتیں مجھے چاہئیں

تبصرہ کریں