جی نہیں کرتا ہے اب رہنے کو پاکستان میں

pakistan-shayari

جی نہیں کرتا ہے اب رہنے کو پاکستان میں
کوئ مجھ کو باہر نکالو اس عذاب جان سے

گندگی کا ڈھیر جگہ جگہ موجود ہے
نکلنے کا دل نہیں کرتا باہر ایمان سے

ٹوٹی سڑکیں جا بجہ منہ چڑاتی ہیں
کوئ ذمہ داری نہیں لیتا کوئ جاۓ جان سے

بجلی پانی دینے سے یہ عاجز ہیں قوم کو
پر ووٹ لینے آجاتے ہیں بڑی ہی شان سے

ملک و قوم کا خون چوس لیا انہوں نے سارا
پھر بھی ایوانوں میں بیٹھے ہیں اطمینان سے

کوئ تو ہو جو انکو بھی پوچھنے والا ہو
کوئ چوری کا سامان لے آۓ انکے خاندان سے

الہیٰ آسرا تیرا ہے تیرے ہی ہیں بندے
نکال دے باہر ہمیں اس سر چڑھے طوفان سے

پھول تھا یہ وطن اب دھول ہی دھول ہے
دعا ہے جلد ختم ہوں مسائل پاکستان سے

guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام تبصرے دیکھیں