-
عشق پر گیت لکھوں کیوں کر، عشق میں رہا سرورنہیں سُر تال کے نشے میں جھوم اُٹھا، چڑھا کوئی فطور نہیں
-
میری حالت پر نہ ترس کھا ،کہ ابھی جان سے گزرنا ہے خودی بنا رکھی ہے یہ حالت اپنی، مُصور کا قصور نہیں
-
مجھے جنت میں بھی چاہیے صرف اور صرف تیرا ساتھ وہاں بھی طلبِ تحت، طلبِ مہ یا طلبِ حور نہیں
-
طلب یوں جیسے آواز کو الفاظ کی، گیت کو ساز کی لیکن چھین لوں تیری خوشی یہ بھی منظور نہیں
-
وہ گناہ کیے جو بتاؤں تو مان لیں اُستاد اپنا ان گناہگاروں میں لیکن ابھی ہونا مشہور نہیں
-
کوئی کر نا دے نعمانؔ ذخمی مجھے، پہنی ہتھکڑی اس لیے ورنہ میں کوئی مجرم نہیں، تیرے زنداں میں محصور نہیں
ارسال کنندہ Numan Ijaz


