-
اک بُرائی کے آسیب میں ہوں مُبتلا ڈھونڈتا ہوں وہی چہرہ، جو نہ ملا
-
رشک اُس پر، جس نے پایا اُنھیں اُنکے چاہنے والوں سے کیا گِلا
-
اس غم میں صرف میں نہیں ساقی آج محفل میں زاہد کو بھی پِلا
-
ریشم سے نازک محبت کی قبا جو پھٹے اک بار دوبارہ نہ سلا
-
گل فروش کے باغ میں بہار آئی کوئی تو بچائے! گُلاب کھلا
-
یاد کرنے ہیں اُنکے عہد سبھی خُدارا نعمان، خط ابھی نہ جلا
ارسال کنندہ Numan Ijaz


