اک بُرائی کے آسیب میں ہوں مُبتلا

unke khat

اک بُرائی کے آسیب میں ہوں مُبتلا
ڈھونڈتا ہوں وہی چہرہ، جو نہ ملا

رشک اُس پر، جس نے پایا اُنھیں
اُنکے چاہنے والوں سے کیا گِلا

اس غم میں صرف میں نہیں ساقی
آج محفل میں زاہد کو بھی پِلا

ریشم سے نازک محبت کی قبا
جو پھٹے اک بار دوبارہ نہ سلا

گل فروش کے باغ میں بہار آئی
کوئی تو بچائے! گُلاب کھلا

یاد کرنے ہیں اُنکے عہد سبھی
خُدارا نعمان، خط ابھی نہ جلا

تبصرہ کریں