حسن کو بے حجاب ہونا تھا

israr-majaz-lakhnawi urdu ghazal

حسن کو بے حجاب ہونا تھا
شوق کو کامیاب ہونا تھا

ہجر میں کیف اضطراب نہ پوچھ
خون دل بھی شراب ہونا تھا

تیرے جلووں میں گھر گیا آخر
ذرے کو آفتاب ہونا تھا

کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی
کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا

رات تاروں کا ٹوٹنا بھی مجازؔ
باعث اضطراب ہونا تھا

تبصرہ کریں