ہزاروں کی بھیڑ میں تنہا ہیں

ہزاروں کی بھیڑ میں تنہا ہیں
ایک تیری ملاقات کے طلبگار ہیں

سمجھے نہ تو زمانے کے جیسا مطلبی
اسی لیے تھوڑا محتاط ہیں

عشق میں تیرے ڈوب گئے اتنا
کہ خود سے بھی بیزار ہیں

کسی کا بولنا بھی نہیں لگتا اچھا
اک تیری آواز کے طلبگار ہیں

شفق

تبصرہ کریں