شعر Read in Roman Urdu & English ہزار طرح کے تھے رنج پچھلے موسم میں پر اتنا تھا کہ کوئی ساتھ رونے والا تھا تصحیح بتائیں اگلا ←ہارنے والوں نے اس رخ سے بھی سوچا ہوگا جمال احسانی کا مزید کلامتمام کلام صبح آتا ہوں یہاں اور شام ہو جانے کے بعدپورا شعر پڑھیں مجھ کو معلوم ہے میری خاطرپورا شعر پڑھیں یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں سب کچھپورا شعر پڑھیں