ہر رات کرتے ہیں ستارے، مجھ سے بات نئی

dil torain urdu

ہر رات کرتے ہیں ستارے، مجھ سے بات نئی
ہوتی ہے بحث اُن سے، ہر رات نئی

آنکھ سے گرتے ہیں ہر رنگ کے موتی
ہر بار کرتا ہوں خیرات نئی

ارد گرد ہیں موجود سبہی دل ٹوٹے
بنا رہا ہوں میں اک ذات نئی

کہتے ہیں عاشقی چھوڑ چل دل توڑیں
سُنو پھر آئیں گی شکایات نئی

مجھے مقدس ہیں اپنی روایات پُرانی
تم رکھو پاس اپنی روایات نئی

میرے ہم دم مل، کہ آئے ہیں موسم سُہانے
مل کہ آئیں نئے بادل، کریں برسات نئی

چھوڑ کر تجھے جا بسوں دُور کسی بستی میں
تجھ سے تھک گیا ہوں عشق، کرنی ہے شروعات نئی

جو کی ہیں وہی بہت ہیں، نعمان آخر مرنے تک
بس کر اب اور نہ کرنا، مجھ پر عنایات نئی

نعمان اعجاز

تبصرہ کریں