حج کا سفر ہے اس میں کوئی ساتھ بھی تو ہو

urdu-ghazal-adil-mansuri

حج کا سفر ہے اس میں کوئی ساتھ بھی تو ہو
پردہ نشیں سے اپنی ملاقات بھی تو ہو

کب سے ٹہل رہے ہیں گریبان کھول کر
خالی گھٹا کو کیا کریں برسات بھی تو ہو

دن ہے کہ ڈھل نہیں رہا اس ریگ زار میں
منزل بھلے نہ آئے کہیں رات بھی تو ہو

مجموعہ چھاپنے تو چلے ہو میاں مگر
اشعار میں تمہارے کوئی بات بھی تو ہو

تبصرہ کریں