مواد پر جائیں
SadPoetry
کبھی تو پلٹیں گے دن کبھی تو ہماری بات ہو گی

کبھی تو پلٹیں گے دن کبھی تو ہماری بات ہو گی

غزل 5 اشعار
  1. کبھی تو پلٹیں گے دن کبھی تو ہماری بات ہو گی ابھی تو ہیں گمنام ، کبھی تو روشن ہماری ذات ہو گی

  2. نہیں آتا سامنے کھل کر کوئی قاتل یہاں غور کر اگر تو ہر قدم پہ گھات ہو گی

  3. تاریکیاں ہیں ، رانجشیں ہیں ، جفائیں ہیں ہو گے لاکھوں مسائل ، ایسی نہ بزم کائنات ہو گی

  4. شکل بھی ہو ، وفا بھی ہو اور کردار بھی ہو ملے ایک شخص میں ، مشکل ہے كہ وہ ذات ہو گی

  5. ہو گاتیرا بھی ہر کسی كے لب پہ نام عامر معاملہ یہ ہو گا اس دن قبر کی جب پہلی رات ہو گی

ارسال کنندہ Aamir Imtiaz Aamir

تصحیح بتائیں

مزید غزل شاعری

سب دیکھیں