-
کبھی تو پلٹیں گے دن کبھی تو ہماری بات ہو گی ابھی تو ہیں گمنام ، کبھی تو روشن ہماری ذات ہو گی
-
نہیں آتا سامنے کھل کر کوئی قاتل یہاں غور کر اگر تو ہر قدم پہ گھات ہو گی
-
تاریکیاں ہیں ، رانجشیں ہیں ، جفائیں ہیں ہو گے لاکھوں مسائل ، ایسی نہ بزم کائنات ہو گی
-
شکل بھی ہو ، وفا بھی ہو اور کردار بھی ہو ملے ایک شخص میں ، مشکل ہے كہ وہ ذات ہو گی
-
ہو گاتیرا بھی ہر کسی كے لب پہ نام عامر معاملہ یہ ہو گا اس دن قبر کی جب پہلی رات ہو گی
ارسال کنندہ Aamir Imtiaz Aamir


