دِل لٹایا ہے ، جان بھی لٹا دوں گا

Dil-Lutaya-Hai

دِل لٹایا ہے ، جان بھی لٹا دوں گا
ہے پیار تجھ سے اک دن دکھا دوں گا
ابھی یاد ہیں تیرے ستم سبھی
مگر یقیناً اک دن بھلا دوں گا
جو چاہو تم تو وعدہ ہے میرا
وفا کرنا بھی تم کو سکھا دوں گا
جو ہو کوئی امید تیرے آنے کی
پلکیں بچھا تیرے رستے سجا دوں گا
کبھی کبھی کرتا ہے شکایت تیری عامر
کسی دن دِل اپنا میں جلا دوں گا

تبصرہ کریں