دل اک زخمی پرندہ

Dil-poetry

دل
اک زخمی پرندہ
جس کے بازو
تھکن اور بے بسی سے
شل ہوچکے ہیں
جہاں بھر کے دکھوں کا بوجھ سنبھالے
بہت ہلکان
بے حد پریشان
دُور سمندر کنارے
خشکی پر پڑا
اپنے آنسوؤں سے
زخم بھرنا چاہتا ہے
مرے وجود کو
پامال کرنا چاہتا ہے
چند امیدیں جو بچ گئی ہیں
سمندر بُرد کرنا چاہتا ہے

تبصرہ کریں