چھپ جاتی ہیں آئینہ دکھا کر تری یادیں

nazi kazmi ghazal

چھپ جاتی ہیں آئینہ دکھا کر تری یادیں
سونے نہیں دیتیں مجھے شب بھر تیری یادیں

تو جیسے مرے پاس ہے اور محوِ سخن ہے
محفل سی جما دیتی ہیں اکثر تیری یادیں

میں کیوں نہ پھروں تپتی دوپہروں میں ہراساں
پھرتی ہیں تصوّر میں کھُلے سر تری یادیں

جب تیز ہوا چلتی ہے بستی میں سرِ شام
برساتی ہیں اطراف سے پتھر تیری یادیں

guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام تبصرے دیکھیں