چل اڑ جا رے پنچھی

چل اڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بے گانہ
چل اڑ جا رے پنچھی۔۔۔

ختم ہوئے دن اس ڈالی کے جس پر تیرا بسیرا تھا
آج یہاں اور کل ہو وہاں یہ جوگی والا پھیرا تھا
یہ تیری جاگیر نہیں تھی چار گھڑی کا ڈیرا تھا
سدا رہا ہے اس دنیا میں کس کا آب و دانہ
چل اڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بے گانہ
چل اڑ جا رے پنچھی۔۔۔

تُو نے تنکا تنکا چُن کر نگری ایک بسائی
بارش میں تیری بھیگی کایا دھوپ میں گرمی کھائی
غم نہ کر جو تیری محنت تیرے کام نہ آئی
اچھا ہے کچھ لے جانے سے دے کر ہی کچھ جانا
چل اڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بے گانہ
چل اڑ جا رے پنچھی۔۔۔

بھول جا اب وہ مست ہوا، وہ اڑنا ڈالی ڈالی
جگ کی آنکھ کا کانٹا بن گئی چال تیری متوالی
کون بھلا اس باغ کو پوچھے ہو نہ جس کا مالی
تیری قسمت میں لکھا ہے جیتے جی مر جانا
چل اڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بے گانہ
چل اڑ جا رے پنچھی۔۔۔

روتے ہیں وہ پنکھ پکھیرو ساتھ تیرے جو کھیلے
جن کے ساتھ لگائے تُو نے ارمانوں کے میلے
بھیگی اکھیوں سے ہی ان کی آج دعائیں لے لے
کس کو پتا اب اس نگری میں کب ہو تیرا آنا
چل اڑ جا رے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بے گانہ
چل اڑ جا رے پنچھی۔۔

تبصرہ کریں