بہت حسیں سہی تیری عقیدتوں کے گلاب

ahmad faraz nazam

بہت حسیں سہی تیری عقیدتوں کے گلاب
حسین تر ہے مگر ہر گلِ خیال ترا
ہم ایک درد کے رشتے میں منسلک دونوں
تجھے عزیز مرا فن، مجھے جمال ترا

مگر تجھے نہیں معلوم قربتوں کے الم
ترے نگاہ مجھے فاصلوں سے چاہتی ہے
تجھے خبر نہیں شاید کہ خلوتوں میں مری
لہو اگلتی ہوئی زندگی کراہتی ہے

تجھے خبر نہیں شاید کہ ہم وہاں ہیں جہاں
یہ فن نہیں اذیت ہے زندگی بھر کی
یہاں گلوئے جنوں پر کمند پڑتی ہے
یہاں قلم کی زباں پر ہے نوک خنجر کی

ہم اس قبیلۂ وحشی کہ دیوتا ہیں کہ جو
پجاریوں کی عقیدت پہ پھول جاتے ہیں
اور ایک رات کے معبود صبح ہوتے ہی
وفا پرست صلیبوں پہ جھول جاتے ہیں

guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام تبصرے دیکھیں