-
بدلے ہوئے حالات سے ڈر جاتا ہوں اکثر شیرازۂ ملت ہوں، بکھر جاتا ہوں اکثر
-
میں ایسا سفینہ ہوں کہ ساحل کی صدا پر طوفان کے سینے میں اتر جاتا ہوں اکثر
-
میں موت کو پاتا ہوں کبھی زیرِ کفِ پا ہستی کے گماں سے بھی گزر جاتا ہوں اکثر
-
مرنے کی گھڑی آئے تو میں زیست کا طالب جینے کا تقاضا ہو تو مرجاتا ہوں اکثر
-
رہتا ہوں اکیلا میں بھری دنیا میں واصف لے نام مرا کوئی تو ڈر جاتا ہوں اکثر


