-
با مہذب ہے زندگی اپنی دیا اپنا ہے روشنی اپنی
-
سر پہ ٹوپی ہے ہاتھ میں ہے قلم کتنی دلکش ہے سادگی اپنی
-
مذہب و ذات کی نہیں ہے خبر کتنی پاکیزہ دوستی اپنی
-
جھوٹ آئے کبھی زبان پہ نہ قائم رکھنی ہے برتری اپنی
-
دوسروں سے مجھے ہے کیا لینا روزہ اپنا نماز بھی اپنی
-
چل بھی سکتے ہیں اڑ بھی سکتے ہیں آسماں اپنا ہے زمین اپنی
-
میں سناتا ہوں گیت ، نغمہ ، غزل دھن بھی اپنی ہے راگنی اپنی
ارسال کنندہ munib muzaffarpuri


