با مہذب ہے زندگی اپنی

با مہذب ہے زندگی اپنی
دیا اپنا ہے روشنی اپنی

سر پہ ٹوپی ہے ہاتھ میں ہے قلم
کتنی دلکش ہے سادگی اپنی

مذہب و ذات کی نہیں ہے خبر
کتنی پاکیزہ دوستی اپنی

جھوٹ آئے کبھی زبان پہ نہ
قائم رکھنی ہے برتری اپنی

دوسروں سے مجھے ہے کیا لینا
روزہ اپنا نماز بھی اپنی

چل بھی سکتے ہیں اڑ بھی سکتے ہیں
آسماں اپنا ہے زمین اپنی

میں سناتا ہوں گیت ، نغمہ ، غزل
دھن بھی اپنی ہے راگنی اپنی

تبصرہ کریں