-
عجب باتیں کھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں میری سانسیں اَٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
-
محبت مر چُکی لیکن ، دل و دماغ میں اب تک تیری یادیں بھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
-
نہیں تعلق کوئی باقی، تو رُک کر کیوں میری جانب تیری آنکھیں مٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
-
نہیں پرواہ زمانے کی، مگر جو باتیں تم نے کیں مجھے یکدم جھٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
-
میری ہر شے سے نفرت ہے، تو پھر کیوں بالیاں تیرے کانوں میں لٹکتی ہیں، مجھے بے چین رکھتی ہیں
شاعر طارق اقبال حاوی
ارسال کنندہ Tariq Iqbal Haavi


