-
اے کاش کبھی وہ وقت آئے میں دور کہیں کھو جاؤں
-
وہ ڈھونڈے مجھ کو نگر نگر میں پھر نہ کبھی اسے مل پاؤں
-
وہ ڈھونڈے مجھ کو پانی میں میں بارش بن کر بہہ جاؤں
-
وہ بیچ سمندر ڈھونڈے پھر میں لہروں میں ہی کھو جاؤں
-
وہ ڈھونڈے دور پہاڑوں میں میں پتھر کا بت بن جاؤں
-
اے کاش کبھی وہ وقت آئے میں دور کہیں ہوں کھو جاؤں
-
وہ ڈھونڈے کوہستانوں میں میں برف کی طرح جم جاؤں
-
وہ ڈھونڈے ننگے پاؤں مجھے پس دور کہیں ویرانوں میں
-
میں اسکے پاؤں کی دھول بنوں پر نہ مل سکوں مستانے کو
-
وہ تھک کے خالی آنکھوں سے یوں دیکھے جب آسمانوں کو
-
میں دور کہیں ان تاروں میں پس اس کو دیکھ کہ مسکاؤں
-
میری چاہت پہ جو ہنستا تھا پس بیٹھا ہو گا بیگانہ یوں
-
اے کاش کبھی وہ وقت آئے میں دور کہیں کھو جاؤں
ارسال کنندہ salma hibib


