ابھی بھی چاند راتوں میں یہاں پریاں اترتی ہیں

ابھی بھی چاند راتوں میں یہاں پریاں اترتی ہیں
اماوس میں ابھی بھی نور میرے ساتھ چلتا ہے
ہوائیں اب بھی مجھ کو دیر تک لوری سناتی ہیں
فضائیں اب بھی میرے ساتھ مل کو گنگناتی ہیں
کوئی مانوس سی خوشبو ہر اک سو پھیل جاتی ہے
میرے کاندھوں کو دھیرے سے کوئی آ کے ہلاتا ہے
مرے پہلو میں آ کے اب بھی کوئی بیٹھ جاتا ہے
اکیلے میں کبھی جب بھی تمہاری یاد آتی ہے

شاعر- حنیف دیپ

تبصرہ کریں