آنکھ میں آنکھ ڈال دیکھا ہے

aankh poetry

آنکھ میں آنکھ ڈال دیکھا ہے
میں نے سارا جمال دیکھا ہے

تیری یادوں کے ایک لمحے میں
میں نے گزرتا سال دیکھا ہے

کوئی اُس کے سوا نا رہتا ہو
اُس نے دل تک نکال دیکھا ہے

میں ہوں،تم ہو اور ڈھیر باتیں ہیں
کتنا اچھا خیال دیکھا ہے

صدا رہنے نہیں یہ تخت و تاج
عروج نے بھی زوال دیکھا ہے

(سلمان احمد اعوان)

guest
0 Comments
Inline Feedbacks
تمام تبصرے دیکھیں