-
اک دیا دل میں جلانا بھی بجھا بھی دینا یاد کرنا بھی اُسے روز بھلا بھی دینا
-
کیا کہوں یہ مری چاہت ہے کہ نفرت اُس کی؟ نام ِلکھنا بھی مرا لکھ کے مٹا بھی دینا
-
پھر نہ ملنے کو بچھڑتا تو ہوں تجھ سے لیکن مُڑ کے دیکھوں تو پلٹنے کی دعا بھی دینا
-
خط بھی لکھنا اُسے مایوس بھی رہنا اُس سے جرم کرنا بھی مگر خود کو سزا بھی دینا
-
مجھ کو رسموں کا تکلّف بھی گوارا لیکن جی میں آئے تو یہ دیوار گرا بھی دینا
-
اُس سے منسوب بھی کر لینا پُرانے قصّے اُس کے بالوں میں نیا پھول سجا بھی دینا
-
صورتِ نقشِ قدم دشت میں رہنا محسن اپنے ہونے سے نہ ہونے کا پتا بھی دینا



