نکل کے تیرے پہلو سے میں جاؤں تو کہاں جاؤں

نکل کے تیرے پہلو سے میں جاؤں تو کہاں جاؤں
بھلا کے تیری یادوں کو میں چاہو تو کسے چاہوں
اداؤں پے تیرے ’ احسان ’ بہت تو مر ہی جاتے ہیں
مگر تیری اداؤں کو میں پاؤں تو کہا پاؤں

تبصرہ کریں