اس نے کہا تھا عشق ڈھونگ ہے

اس نے کہا تھا عشق ڈھونگ ہے
میں نے کہا

تجھے عشق ہو خدا کرے
کوئی تجھ کو اس سے جدا کرے
تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائیں
تیری آنکھیں پرنم رہا کریں
تو اس کی باتیں سنا کرے
تو اس کی باتیں کیا کرے
تجھے عشق کی وہ جھڑی لگے
تو ملن کی ہر پل دعا کرے
تو نگر نگر صدا کرے
تو گلی گلی پھرا کرے
تجھے عشق ہو پھر یقین ہو
اسے تسبیح پہ پڑھا کرے
پھر میں کہوں عشق ڈھونگ ہے
تو نہیں نہیں کیا کرے

تبصرہ کریں