شہر کی اجنبی گلیوں میں

شہر کی اجنبی گلیوں میں
میری محبت مجھ سے کھو گئی

تو مجھ سے بچھڑ گیا کہیں
میں تنہا تنہا سی ہو گئی

جب دیکھا کسی کو کسی کے ساتھ
میں تجھے یاد کر کے رؤ گئی

تیری جدائی میں یوں برسیں آنکھیں
کے برسات میرا دامن بھگو گئی

مجھے اب کسی سے کیا گلہ کرنا توصیف
جب خود میری قسمت ہی سو گئی

تبصرہ کریں