میں نے کہا تیری یاد میں آنکھیں روتی ہیں

nazam

میں نے کہا تیری یاد میں آنکھیں روتی ہیں
جواب آیا یہ اسی طرح صاف ہوتی ہیں

پوچھا دَرْد ہجر کا کوئی علاج بتائیے
جواب آیا وصل ہو گا اسی طرح روتے جائیے

میں نے کہا اب آنكھوں كے ساتھ دِل بھی روتا ہے
جواب آیا عاشقوں كے ساتھ اکثر یہی ہوتا ہے

میں نے کہا رات کو آنسوں سے تکیے بھیگ جاتے ہیں
جواب آیا چلو اسی بہانے ہَم تمہیں یاد تو آتے ہیں

میں نے کہا تیری محبت میری زندگی بھر کی کمائی ہے
جواب آیا تو ماہر مبالغہ آرائی ہے

میں نے کہا میری مشکلات کا کوئی حَل بتائیے
جواب آیا اصغر خدا كے لیے بھول جائیے

تبصرہ کریں