ہَم تیرے دِل میں اِس بہانے آئے

tere-dil-mein-urdu-poetry

ہَم تیرے دِل میں اِس بہانے آئے
کیا بہانہ تھا دِل تم سے لگانے آئے

تمہیں معلوم ہو نا پایَہ ہماری آمَد کا سبب
اپنی خواہش تھی كے ہوش ٹھكانے آئے

مدت سے تشنگی تھی تم سے بات کرنے کی
بڑے دنوں بَعْد آج یہ پیاس ہَم بجھانے آئے

رات کو سو نہ سکے دن کو بے چین رہے
نیند بھیجو كے وہ ہمیں آ كے سلانے آئے

جب شاعری کرتے ہو تو پیاری کرتے ہو
یہ بات کون اصغر کو سمجھانے آئے

تبصرہ کریں