-
ہَم تیرے دِل میں اِس بہانے آئے کیا بہانہ تھا دِل تم سے لگانے آئے
-
تمہیں معلوم ہو نا پایَہ ہماری آمَد کا سبب اپنی خواہش تھی كے ہوش ٹھكانے آئے
-
مدت سے تشنگی تھی تم سے بات کرنے کی بڑے دنوں بَعْد آج یہ پیاس ہَم بجھانے آئے
-
رات کو سو نہ سکے دن کو بے چین رہے نیند بھیجو كے وہ ہمیں آ كے سلانے آئے
-
جب شاعری کرتے ہو تو پیاری کرتے ہو یہ بات کون اصغر کو سمجھانے آئے
ارسال کنندہ m.asghar mirpuri


