عشق كے میدان میں دوڑے تو نہیں تھے

funny-poetry

عشق كے میدان میں دوڑے تو نہیں تھے
اب بھی گدھے ہو پہلے بھی گھوڑے تو نہیں تھے

آفس بے لیٹ آئے ہو اور کان بھی ہے لال
بیگم نے رات کو کان مروڑے تو نہیں تھے

شکایت کیوں کی اپنے باپ سے جا کر
پاکری تھے ہاتھ تیرے توڑے تو نہیں تھے

کل شام مجھے دیکھ کر تم بھاگے کیوں اِس طرح
ساغر كے ہاتھ میں کوئی روڑے تو نہیں تھے

تبصرہ کریں