دھند چھائی ہوئی ہے جھیلوں پر

jon-elia-poetry

دھند چھائی ہوئی ہے جھیلوں پر
اُڑ رہے ہیں پرند ٹیلوں پر

سب کا رخ ہے نشیمنوں کی طرف
بستیوں کی طرف، بنوں کی طرف
اپنے گلوں کو لے کے چروا ہے
سرحدی بستیوں میں جا پہنچے

دل ناکام! میں کہاں جاؤں؟
اجنبی شام! میں کہاں جاؤں؟

تبصرہ کریں