ہر اک جذبات کو زُبان نہیں ملتی

aansu-123

ہر اک جذبات کو زُبان نہیں ملتی
ہر اک آرزو کو دعا نہیں ملتی
مسکراہٹ بنائے رکھو تو دُنیا ہے ساتھ
آنسوؤں کو تو آنکھوں میں بھی پناہ نہیں ملتی

تبصرہ کریں