-
گناہ کر كے محبت کا کوئے یار چلے شوق آوارگی میں عاشق بے شمار چلے
-
ستم ظریفی کی محفل میں بولی لگ نہ سکی نظر میں کھوٹ تھا پِھر کیسے کاروبار چلے
-
آب رواں پہ بھی لرزہ تھا تند موجوں کا وہ اپنی بستی میں یوں ڈوبے كے بیکار چلے
-
شہر آرزو میں بھی خوف تھا آندھیون کا بہت یوں توڑ كے اپنے گھروں کو سب معمار چلے
ارسال کنندہ Shabeeb Hashmi

