جھیل کنارے بیٹھ كے دونوں

ghazal-poetry

جھیل کنارے بیٹھ كے دونوں
پھولوں کی برسات کریں

موتی پڑو كے ان آنكھوں میں
سپنوں پہ ہَم بات کریں

سوناحری پریاں پر پھیلائے
جنت کی آغوش بنائے

گم ہو جائیں اِس جنت میں
رنگوں کی بارات کریں

ریشم جیسی ٹھنڈی ہوا میں
بکھری ہوئی زلفوں کی فضا میں

نینوں کی پِھر بول كے بولی
جذبوں کو بےتاب کریں

پھیلے کاجل جیسے ہو بادل
اڑتا ہوا میں رنگین آنچل

سیپوں میں جیسے بندھوں موتی
ایسی ہَم ملاقات کریں

ساز بجائیں بارش کی بوندیں
سنتے جائیں ہَم آنکھیں موندے

گیت اور غزلوں كے مکھڑوں پر
لفظوں کی برسات کریں

کان کی بالی گھال پہ ناچے
سر اور تال پہ کنگن ناچے

گجروں کی مہکار پہ بے سدھ
ہر شب کو شب رات کریں

نیلا سمندر اور اسکا ساحل
چھم چھم کرتی ریت پہ پائل

رقص کرتی ہواؤں میں لہریں
خوشبوؤں کی سوغات کریں

جھیل کنارے بیٹھ كے دونوں
پھولوں کی برسات کریں

موتی پرو كے ان آنكھوں میں
سپنوں پہ ہَم بات کریں

تبصرہ کریں