گھر سے نکل کر اپنے تیرے آستان تک پہنچوں

ishq-ghazal

گھر سے نکل کر اپنے تیرے آستان تک پہنچوں
گماں كے رنگوں میں حد گماں تک پہنچوں

پِھر انہی موسموں كے درمیان چلتے چلتے
بہاروں سے نکلتے ہوئے خزاں تک پہنچوں

رات تو باقی ہے ابھی جانے کا فیصلہ نہ کرو
تیری آنكھوں سے میں عشق کی داستاں تک پہنچوں

کئی صدیوں سے مسافت کو سمیٹا ہے میں نے
تو ہی بتا دے اب میں اور کہاں تک پہنچوں

تجھے آنگن میں ستاروں کی طرح سجانے كے لیے
زمین پہ رنگ سجاؤں اور آسماں تک پہنچوں

تبصرہ کریں