-
گھر سے نکل کر اپنے تیرے آستان تک پہنچوں گماں كے رنگوں میں حد گماں تک پہنچوں
-
پِھر انہی موسموں كے درمیان چلتے چلتے بہاروں سے نکلتے ہوئے خزاں تک پہنچوں
-
رات تو باقی ہے ابھی جانے کا فیصلہ نہ کرو تیری آنكھوں سے میں عشق کی داستاں تک پہنچوں
-
کئی صدیوں سے مسافت کو سمیٹا ہے میں نے تو ہی بتا دے اب میں اور کہاں تک پہنچوں
-
تجھے آنگن میں ستاروں کی طرح سجانے كے لیے زمین پہ رنگ سجاؤں اور آسماں تک پہنچوں
ارسال کنندہ Shabeeb Hashmi


