-
ندامت کے دَرو بام پہ ہوئے کفر كے حساب وجدان میں طلوع ہوا صبح کا آفتاب
-
امکان ہے کے زندان سے ہو جائیں گے رہا تسخیر کر لیا ہے نفرت کا وہ سیلاب
-
دستک ہے جگنوؤں کی سنوائی كے لیے اب پیشانی وقت پہ چمکا ہے مہتاب
-
ہر صفحے پہ داستان ہے حسنِ سلوک کی پییمان زندگی کی ہے بکھری ہوئی کتاب
-
انجان سے سوالوں کا تقاضہ ہے دن بدن جنگل کو اِس فضا میں کیسے ملے جواب
-
طوفان میں بکھری ہوئی پھولوں کی پتیاں کانٹوں كے بیچ خون میں نہایا ہوا گلاب
ارسال کنندہ Shabeeb Hashmi


