-
تسلسل تھا بے خودی کا یا صبح کا غبار تھا آنكھوں میں اسکی رات کا باقی خمار تھا
-
مجھ کو پلا كے وہ بڑا مسرور تھا ہوا میں نے بھی جام لے لیا مجھے اعتبار تھا
-
مل کے بھی دوستوں سے بھولا نہ وہ مجھے چہرے پہ تھی چماک وہ مگر بے قرار تھا
-
وہ چھوڑ کر بلندیوں کو پستی میں چل پڑا میں اُس کا ہاتھ چھوڑ دیتا مجھے اختیار تھا
-
اپنی وفا کا اظہار اس نے مجھ سے یوں کیا روکسات ہوا تو تب بھی وہ میرا طلب گار تھا
ارسال کنندہ Shabeeb Hashmi


