تسلسل تھا بے خودی کا یا صبح کا غبار تھا

shayari-udas

تسلسل تھا بے خودی کا یا صبح کا غبار تھا
آنكھوں میں اسکی رات کا باقی خمار تھا

مجھ کو پلا كے وہ بڑا مسرور تھا ہوا
میں نے بھی جام لے لیا مجھے اعتبار تھا

مل کے بھی دوستوں سے بھولا نہ وہ مجھے
چہرے پہ تھی چماک وہ مگر بے قرار تھا

وہ چھوڑ کر بلندیوں کو پستی میں چل پڑا
میں اُس کا ہاتھ چھوڑ دیتا مجھے اختیار تھا

اپنی وفا کا اظہار اس نے مجھ سے یوں کیا
روکسات ہوا تو تب بھی وہ میرا طلب گار تھا

تبصرہ کریں